نئی دہلی (اے پی پی) نئی دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے پی شاہ نے کہا ہے کہ کشمیری نوجوان محمد افضل گورو اور بھارتی مسلمان یعقوب میمن کی پھانسیوں میں سیاسی عمل دخل کارفرما تھا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اے پی شاہ نے نئی دہلی میں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ یعقوب میمن کی پھانسی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے ججوں کے نکتہ نظر میں تضاد تھا جس کے بعد یہ معاملہ ایک دوسرے بنچ کو منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد بھی اسے چودہ روز دئیے جاتے ہیں لیکن یعقوب میمن کی پھانسی میں یہ مروجہ طریقہ کار نہیں اپنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افضل گورو کی رحم کی اپیل بھی ایک لمبی مدت تک زیر التوا رکھی گئی جس کے بعد اچانک انہیں پھانسی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو سیاسی عمل دخل سے مبرا ہونا چاہئے کیونکہ یہ بات انکے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔