ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے بے ترتیب پھیلاؤ  کی مناسب ریگولیشن کی جائے، اعظم تارڑ 

Dec 11, 2022


اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی)  وفاقی وزیر قانون و انصاف سنیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے بے ترتیب پھیلاؤ اور نشوونما کو روکنے کیلئے ہاؤسنگ شعبے کی مناسب ریگولیشن کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد قوانین کی موجودگی کے باوجود ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی غیر منظم نشوونما میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہاؤسنگ شعبے کے منظم فروغ میں معاونت کرنے کے بجائے متعدد قوانین ابہام پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کی بڑھتی ہوئی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہاؤسنگ سیکٹر میں منظم اور ریگولیٹڈ تعمیر و ترقی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔  انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو آئندہ نسلوں کے لیے ایک ماڈل سٹی کے طور پر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔۔ انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اسلام آباد میں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کمرشل اور انڈسٹریل بلڈنگ کی تعمیر کو ممکن بنانے کیلئے بلڈنگ بائی لاز میں ضروری ترمیم کی کوششوں میں ہرممکن تعاون کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پہلی انٹرنیشنل ہاؤسنگ ایکسپو کے دورے کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ایکسپو میں لگائے گئے سٹالز کا دورہ کیا اور نمائش کیلئے پیش کی گئی تعمیراتی مصنوعات اور پراجیکٹس میں گہری دلچسپی لی۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے پہلی انٹرنیشنل ہاؤسنگ ایکسپو منعقد کرنے پر وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اقدام کو سراہا۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ سی ڈی اے کے بلڈنگ بائی لاز سالوں پرانے ہیں جو موجودہ دور کے مطابق کمرشل اور انڈسٹریل بلڈنگ کی تعمیر میں معاون ثابت نہیں ہو رہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزارت قانون انصاف بلڈنگ بائی لاز کو جدید دور کے مطابق ڈھالنے کیلئے مکمل تعاون کرے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کو چیمبر کا دورہ کرنے کی دعوت کی جو انہوں نے قبول کی اور کہا کہ موقع ملنے پر وہ آئی سی سی آئی کا دورہ کریں گے۔وزارت ہاؤسنگ و ورکس کے وفاقی سیکرٹری افتخار علی شلوانی نے کہا کہ زرعی زمین پر ہاؤسنگ سائٹیوں کی تعمیر کو روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ رجحان زراعت کیلئے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں عمودی عمارتوں کی طرف جانا چاہیے تا کہ زرعی زمین کو زراعت کیلئے محفوظ رکھا جا سکے۔جنوبی افریقہ کے ہائی کمشنر ایم مدکیزا، سنیٹر سیمی ایزدی، نیلوفر بختیار، چیئرپرسن، نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن، اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل ڈاکٹر اکبر ناصر خان، سابق معاون خصوصی برائے وزیراعظم حنیف عباسی اور سینٹورس مال کے چیف ایگزیکٹو سردار یاسر الیاس خان نے بھی ایکسپو کا دورہ کیا۔ انہوں نے اعلیٰ معیار کی مصنوعات اور ہائی پروفائل پراجیکٹس نمائش کیلئے پیش کرنے پر نمائش کنندگان کی کاوشوں کو سراہا اور شاندار نمائش منعقد کرنے پر آئی سی سی آئی اور وزارت ہاؤسنگ و ورکس کی تعریف کی۔  ایکسپو کے تیسرے دن تین سیشنز منعقد ہوئے جن میں یو این ہیبی ٹیٹ پاکستان کے تعاون سے '' بعد از آفات کی پائیدار بحالی اور تعمیر نو''، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے تعاون سے ''اربن پلاننگ اینڈ ہائیڈرولوجی'' اور پی ایچ اے فاؤنڈیشن کے تعاون سے ''سمارٹ گراؤتھ اور عمودی ترقی، چیلنجز اور آگے کا راستہ "شامل تھے۔

مزیدخبریں