لاہورپریس کلب میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرفوزیہ صدیقی نے کہا کہ کسی ملک کی وزارت خارجہ کوشش کرے تو امریکہ میں قید غیرملکی شہریوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اٹھایئس مارچ کو عافیہ کے لئے اپیل کی تاریخ ہے لیکن جب سے اسے سزا ہوئی ہے کسی کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا، وکیل نہیں ملے گا تو وکالت نامے پر دستخط کیسے ہوں گے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے واضح کیا کہ عافیہ کہ پاکستان کی جانب سے وکلا کا کوئی پینل نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا بھائی پانچ دن اور پانچ راتیں کورٹ آرڈر لے کر جیل کے باہر عافیہ سے ملنے کا انتظار کرتا رہا لیکن اسے ملنے نہیں دیا گیا۔ فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم گیلانی نے تین دن میں ان کے خط کا جواب نہ دیا تو وہ خط میڈیا کے سامنے پیش کردیں گی۔