اسلام آباد(خبرنگار+صباح نیوز+آن لائن+نوائے وقت رپورٹ)چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پر ہر سمت سے یلغار ہورہی ہے ۔ ان حالات میں حکومت پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے نہ لیکر اپنے پائوں پر خود کلہاڑی ماررہی ہے ۔ چیئرمین نے جمعرات اور جمعہ کے اجلاسوں کے ایجنڈے میں حکومتی بزنس شامل نہ کرنے کی رولنگ جاری کردی اور کہا کہ حکومت نے مذاق بنا رکھا ہے ۔ پارلیمنٹ کے بارے میں وزرا کا طرز عمل ناقابل برداشت ہے چیئرمین سینیٹ نے 39میں سے 25سوالات کے جوابات نہ آنے پر کارروائی کو ایک گھنٹہ کیلئے معطل کردیا وقفہ سوالات کی کارروائی چلانے سے انکار کردیا گیا ۔ سینیٹ کا اجلا س بدھ کو 8منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا توچیئرمین سینیٹ نے وقفہ سوالات کے اکثریت کی عدم جوابات کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ سوال نمبر 2-8-13-25جوکہ وزارت کیڈ سے متعلق ہیں کو وزارت صحت کو بھیج دیا گیا وہاں سے جواب آیا یہ سوالات ان سے متعلق نہیںہیں ۔ سوالات ہوا میں معلق اسلام آباد کے نئے ایئر پورٹ کے افتتاح کے بارے میں بھی جواب آیا ہے ۔ معلومات اکٹھی کی جارہی ہے ۔ 39میں سے 14سوالات کے جوابات آئے ہیں ۔ وزارت ٹیکسٹائل، وزارت تجارت کے 10سوالات کے بارے میں جواب آیا ہے کہ وزیر تجارت ملک سے باہر ہیں ۔ وزیر مملکت عمرے پر ہیں ۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کیسے سینیٹ کو چلائوں، وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ میں خود اس صورتحال پر حیران ہوں ۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزراء وزیراعظم کو خط لکھ رہے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کو بریفنگ نہیں دے سکتے ۔ شیخ آفتاب احمد نے اسکی تصدیق کی اور کہا کہ ایسا ہی کچھ ہے ۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ملکی حالات ٹھیک نہیں ہیں پارلیمنٹ پر یلغار ہورہی ہے ۔ حکومت سنجیدہ نہیں ہے اور وہ خود اپنے پائوں پر کلہاڑی مار رہی ہے ۔ انہوںنے وزیر پارلیمانی امور پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وقفہ سوالات کی کارروائی چلانے سے انکار کردیا اور سینیٹ کی کارورائی ایک گھنٹہ تک معطل رہی 4بجکر 8منٹ پر اجلاس شروع ہوا تو وزارت منصوبہ بندی و ترقی سے متعلق توجہ مبذول کروانے کے نوٹس پر بیان دینے کیلئے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ایوان میں موجود نہیں تھے ۔ وزیر موصوف نے اس بارے میں سینیٹ سیکرٹریٹ کو بھی آگاہ نہ کیا تھا ۔ چیئرمین سینیٹ نے قائد ایوان راجہ ظفرالحق کو مخاطب کیا کہ حکومت بتا دے کہ وہ ہائوس کو نہ نہیں چلانا چاہتی ہے ۔ حکومت نے پارلیمنٹ کو مذاق بنادیا ہے ۔ وقفہ سوالات بھی نہ ہوسکا ۔ توجہ مبذول کرانے کے نوٹس کا جواب بھی دینے کو کوئی نہیں ہے ۔ حکومت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے گھر اور پارلیمنٹ پر یلغار ہورہی ہے، جس پر وزیرمملکت نے کہا کہ 3 ماہ قبل وفاقی وزرا کو خط لکھا تھا کہ پارلیمانی بزنس کیلئے ایوان میں حاضر ہوں مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے، ایسے حالات میں پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے اور مزید اپنے پائوں پر کلہاڑی نہ مارے اور وزرا کو پابند کریں کہ وہ ایوان میں پارلیمانی بزنس کا جواب دیں۔چیئرمین رضا ربانی کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں نئے بیسک ایجوکیشن‘ کمیونٹی سکول کی عدم تعمیر اور بجٹ مختص نہ ہونے پر سینٹ میں بحث ہوئی۔ شیری رحمان نے کہا کہ اس وقت ملک کے 44 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کی طرف سے پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر اسلامی فوجی انسداد دہشتگردی اتحاد میں شامل ہونے کے معاملے پر چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے تحریک التواء کو بحث کیلئے منظور کرلیا ۔پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمان نے تحریک التواء پیش کی تھی۔ دریں اثناء سینیٹ میں بدھ کو شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعہ میں فوجی افسر و جوان کی شہادتوں پر شہداء کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعا کی گئی۔راجہ ظفرالحق نے شمالی وزیرستان میں شہید لیفٹیننٹ معید اور جوان بشارت کیلئے دعا کروائی ۔
اسلام آباد (نیٹ نیوز) ملک میں جاری تنائو کی صورتحال پر سپیکر قومی اسمبلی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ نہیں لگتا کہ اسمبلیاں مدت پوری کریں۔ پہلی بار ناامیدی ہوئی، مایوسی گناہ ہے، دعا ہے کہ ہمیں بھی اس ملک میں رہنا ہے اور ہماری نسلوں کو بھی۔ وزیراعظم اور اپوزیشن کی خواہش ہے کہ اسمبلیاں مدت پوری کریں، سوائے ایک جماعت کے۔ ایسے حالات 2002ء اور 2008ء میں بھی نہیں تھے۔ گزشتہ 3 ماہ کے اندر جس تیزی سے واقعات رونما ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ کوئی گریٹر پلان بن رہا ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے واقعات جتنی تیزی سے رونما ہوئے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ سینٹ سے ڈی لمیٹیشن کا بل پاس نہیں ہوا۔ چھوٹے صوبے لازماً عدالت جائیں گے، پنجاب تو اپنی سیٹوں میں اضافے کے حق کو چھوڑنے کو تیار ہے۔ الیکشن کمشن پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ انتخابات کی تیاری کیلئے ہمیں 5 ماہ چاہئیں۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگ استعفوں کی طرف جائیں، ممکن ہے وہ چاہتے ہوں کہ مارچ میں سینٹ الیکشن نہ ہوں۔ مجھے یہ سب چیزیں نظر آرہی ہیں، کون کروا رہا ہے معلوم نہیں۔ تین ماہ میں جتنی تیزی سے حالات بدلے یہ سب غیر فطری ہے۔ مشرف دور میں تو صرف ایک ڈکٹیٹر تھا، آج تو چاروں طرف سے کھینچاتانی چل رہی ہے۔ مارشل لاء کا امکان نہیں لیکن ضروری نہیں کہ مارشل لاء ہی کے ذریعے سسٹم کو ڈی ریل کیا جائے۔ پہلے تو ہم سیاسی انداز سے حالات سے نپٹ لیتے تھے آج تو بے بسی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے لیکن کچھ ہونے والا ہے۔ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق ہیں۔ ہمارے اندرونی خطرات بیرونی سے کہیں بڑے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن چاہتی ہے کہ سسٹم بریک نہ ہو۔ دعا کریں پاکستان مستحکم ہو، اس پر کوئی آنچ نہ آئے، پاکستان ہے تو ہماری عزت ہے، حکومت کو کیا الزام دوں، وقت پر سب چیزوں کو ہینڈل کرنا چاہئے تھا۔ جو کچھ ہورہا ہے وہ کسی ادارے نہیں، پورے ملک کیلئے اچھا نہیں، جو کچھ بھی ملک میں ہورہا ہے اسے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ پاکستان کے اوپر نظریں ہیں، یہ چیزیں نارمل نہیں۔ صورتحال بہت غیر یقینی ہے، ہر بات پوچھی نہیں جاتی، کچھ سمجھی جاتی ہیں۔ حکومت مضبوط بھی ہوتی ہے اور مصلحتاً کمزور بھی ہوجاتی ہے۔