سالار کا دبنگ بیانیہ اور عید آزادی

امر اجالا
اصغر علی شاد
غیر جانبدار مبصرین نے کہا ہے کہ یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ گزشتہ اڑھائی سال سے ایک گروہ اپنے غیر ملکی آقاوں کے اشارے پر پاکستان کے اندر اور باہر مایوسی اور انتشارکی فضا پیدامیں کرنے میں مصروف تھا اور اپنے اس مذموم مقصد میں اس پاکستان مخالف گروہ کو کافی حد تک کامیابی بھی حاصل ہو رہی تھی مگر گزشتہ 15روز میں جنوبی ایشیا میں رونما ہونے والی تبدیلوں نے صورتحال کو کسی حد تک تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
 شیخ حسینہ کے فرار اور بنگلہ دیش میں حکومتی تبدیلی نے پاکستان کے مخالفوں کو بری طرح پست کر دیا ہے تو دوسری جانب ارشد ندیم کی شاندار کامیابی نے پاکستان میں امید کی نئی فضا پیدا کر دی ہے۔علاوہ ازیں جنرل فیض حمید کی گرفتاری نے بھی ماحول میں چھائی غیر یقینی اور مایوسی کی کیفیت کو قدرے کم کردیا ہے۔اس تمام صورتحال کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ جشن آزادی جس شاندار طریقے سے پورے ملک میں منائی گئی اس کے نتیجے میں قوم کا مورال بلند ہوا ہے۔  
اسی تناظر میں یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقادکیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاک سپہ سالار کا کہناتھاکہ نااتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کر کے بیرونی جارحیت کی راہ ہموار کر دیتے ہیں اور افواج پاکستان کو کمزور کرنا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے اس ضمن میں مزید کہا کہ عزم استحکام قومی عزم کا استعارہ، سلامتی کا ضامن اور وقت کا اہم تقاضا ہے‘ہم اپنے دشمنوں کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ چاہے روایتی یا غیر روایتی جنگ ہو، Dynamic یا Proactive جنگی حکمتِ عملی ہو، ہمارا جواب تیز اور دردناک ہوگا اورہم یقیناً گہرا اور دور رس جواب دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کو ہمارا پیغام ہے کہ وہ فتنہ الخوارج کو اپنے دیرینہ، خیر خواہ اور برادر ہمسائے ملک پر کسی طور ترجیح نہ دے۔یہ واضح رہنا چاہیے کہ قوم کا پاک فوج پر غیرمتزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے اور مجھے پختہ یقین ہے کوئی منفی قوت اعتماد کے اس رشتے کو کمزور کرسکی ہے اور نہ ہی آئندہ کرسکے گی، انشااللہ۔انہوں نے اپنی بات مزید آگے بڑھاتے کہا کہ افواج پاکستان نے ملک کے دفاع کی قسم کھا رکھی ہے جس کی آبیاری وہ اپنے خون سے کررہی ہے، ہم کسی بھی صورت اور قیمت پر اپنی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور پچھلے چند سالوں سے بیرونی طاقتوں کی سرپرستی میں ڈیجیٹل دہشت گردی کی کوشش کی جارہی ہے جس کا مقصد قوم میں نفاق اور مایوسی پھیلانا ہے جبکہ قرآن میں حکم ہے کہ کسی بھی خبر کی تحقیق کرلیا کرو تاکہ پھر اپنے کیے پرپچھتاوانہ ہو۔آئین آزادی اظہار کی ضرور اجازت دیتا ہے، مگر آئین پاکستان نے اسکی واضح حد بندی بھی کر رکھی ہے‘عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے اور دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ عوام اور فوج ایک ہیں۔ آرمی چیف نے اسی تناظر میں مزید کہا کہ ہمارے پختون بھائیوں نے جرات، ایثار اور قربانیوں کی جو لا زوال داستان رقم کی ہے، اِس پر پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے اور آپ کی مرہونِ احسان ہے۔ خیبر پختونخوا میں بالخصوص فتنہ الخوارج کی ریاست اور شریعت مخالف کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردی کے فتنہ نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، اِسی فتنے کے بارے میں کہا تھا کہ“اگر تم شریعت کو نہیں مانتے،آئین پاکستان کو نہیں مانتے تو ہم بھی تمہیں پاکستانی نہیں مانتے”۔ آرمی چیف نے کہاکہ بلوچستان بہادراورحب الوطن لوگوں کا مسکن ہے لیکن چند عناصر اسے غیرمستحکم کرنے کے درپے ہیں‘ ان کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی‘ پاک فوج، حکومت پاکستان اور بلوچستان کے تعاون سے بلوچستان اور اِس کی غیور عوام کی سالمیت اور فلاح و بہبود کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔آرمی چیف کا کہنا تھاکہ افغانستان ہمارا برادر ہمسایہ اسلامی ملک ہے، ہم افغانستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھنے کے خواہاں ہیں۔پاکستان کا مستقبل روشن و تابناک ہے۔خطے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے عزائم سرگرم عمل ہیں‘خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سرکوبی کیلئے برسرپیکار ہیں‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک ناصرف قائم رہنے بلکہ دنیائے عالم میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے معرض وجود میں آیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے ارتقائی دور خاص طور پر ماضی قریب میں متعدد چیلنجز کا بخوبی مقابلہ کیا، کسی بھی مشکل نے ہمارے عزم اور ارادے کو کمزور نہیں کیا‘ہم من حیث القوم ہر مشکل کے بعد اور بھی زیادہ مضبوط قوم بن کر ابھرے جس میں قوم اور افواج کا باہمی اعتماد کلیدی رہا ہے۔توقع کی جانی چاہیے آنے والے دن ہر لحاظ سے ملک و قوم کے لئے امید افزا ہوں گے۔انشااللہ

ای پیپر دی نیشن

ہم باز نہیں آتے!!

حرف ناتمام…زاہد نویدzahidnaveed@hotmail.com یادش بخیر …یہ زمانہ 1960 کا جس کے حوالے سے آج بات ہوگی۔ یہ دور ایوب خاں کے زوال اور بھٹو ...