تنہا عزم کی داستان اور قافلے بنتے چلے گئے عزم کے قافلے میں شامل ہونے والے پہلے تنویر احمد ہیں یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جو چند ماہ قبل تک اپنے حلقہ احباب کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا اور آج نہ صرف ہیرو پاکستانی ہیں بلکہ دنیا بھر میں اسے ہیرو پاکستان کہہ کر پکارتی اور لکھتی ہے سیالکوٹ کے گاؤں آدھا کے رہائشی تنویر احمد ،آج انکے چرچے ہر جگہ ہو رہے ہیں جب میری ان سے فون پہ بات ہوئی تو 35 سال قبل وہ روزگار کے سلسلے میں امریکہ جانے والے تنویر احمد کے لبوں لہجے میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی یا تکبر کی رمق تک نہ تھی آرمی چیف جنرل حافظ عاصم منیر کی آواز پر لبیک کہنے والے امریکی پاکستانی بزنس مین ٹائیکون تنویر احمد نے اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی NUST کو 9 ملین ڈالر کا عطیہ دیا تاکہ غریب طبا کو اعلیٰ معیاری سکالرشپ تعلیم کی رسائی حاصل ہو تنویر احمد کی حب الوطنی اور پاکستانی قوم سے خصوصی لگاؤ کا اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے تنویر احمد نے 2022 میں پاکستان میں سیلاب زدگان کے لیے خصوصی کاوشوں اور کوششوں سے امریکی حکومت سے خصوصی طور پر 50 ملین ڈالر کی امداد دلوائی ان کی یہ خدمات قابل تحسین اور قابل فخر ہیں جو کماتے باہر ہیں اور لگاتے پاکستانیوں پر ہیں آرمی چیف حافظ جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تنویر احمد جیسے لوگوں پر فخر ہے گزشتہ دنوں اسلام اباد میں پھر سے بلائے گئے کسانوں کے کنونشن سے آرمی چیف حافظ جنرل عاصم منیر نے اپنی فی البدیہہ تقریر کا آغاز سورۃ یوسف کی آیت سے کیا ترجمہ تشریح جس میں قحط سالی سے بچنے کے لیے اقدامات تفصیل سے ذکر ملتا ہے تحریر کی طوالت کے پیش نظر اختصار سیکام لوں گی خواب کی تعبیر سات سال خوشحالی اور سات سال قحط سالی کے معلوم ہونے کے بعد حضرت یوسف تدابیر اپنائی پہلے مرحلے میں آپ نے زیادہ سے زیادہ غلہ اگانے کی منصوبہ بندی کی ایسے اقدامات کیے وہ زمینیں جو قابل کاشت نہیں تھیں انہیں بھی کاشت کے قابل بنایا اس طرح ضرور سے زیادہ فصلیں تیار ہو گئیں آپ نے حکومتی خزانوں سے فصلیں خرید لیں اور قحط سالی کے سات برسوں کے لیے غلہ ذخیرہ کر لیا اگلا مرحلہ خوراک کے اس عظیم الشان ذخیرے کو اس طرح محفوظ کرنے کا تھا کہ وہ سات سال تک قابل استعمال رہے اس سلسلے میں آپ نے غلے کو جمع کرنے کے لیے مخروطی شکل کے اہرام ڈیزائن کیے ہزاروں سال قبل تعمیر کیے جانے والے یہ ابرام اج بھی معمہ بنے ہوئے ہیں حافظ جنرل عاصم منیر نے مزید کہا پاکستان وسائل سے مالا مال ہے پاکستان کے پاس گلیشیئر دریا پہاڑ اور ذرخیر زمین ہے جس سے دنیا کا بہترین چاول کی آ م جیسے پھل فوڈ سونا اور تانبہ جیسے خزانے موجود ہیں 60 کی دیہائی میں پاکستان ایشیا کا تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا لیکن ہم نے قائد اعظم کے تین زرعی اصول ایمان اتحاد تنظیم کو بھلا دیا جس کی وجہ سے تنرلی کا شکار ہونے گرین پاکستان انسٹیٹیوٹ کا مقصد یہی ہے کہ ہمیں سب سے پہلے زراعت پر کام کرنا ہوگا گرین پاکستان انسٹیٹیوٹ کی آمدن کا بڑا حصہ صوبوں کو جائے گا جبکہ باقی حصہ کسانوں زرعی ریسرچ کے لیے رکھا جائیگا فوج کااس میں رول صرف عوام اور کسانوں کی خدمت ہے تمام اضلاح میں زرعی مالز Agriculture Malls کا انعقاد کیا جائیگا آسان زرعی قرضوں گولڈ سٹوریج کی چین موسمی تبدیلیوں کے تاثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے بیج اور جینٹیکلی انجینئرڈ لائیو سٹاک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا ہر قسم کے مافیا کی قوم کے ساتھ مل سر کوبی کریں گے
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیئت سے رائی
٭…٭…٭