لاہور ہائی کورٹ نے سیاستدانوں اور افسران کو سرکاری خزانے سے چائے کا ایک کپ بھی پینے پر تاحکم ثانی پابندی لگا دی اور سرکاری خزانے کے ذاتی استعمال سے بھی روک دیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس امین الدین خان نے لائرز فانڈیشن کی وی آئی پی کلچر اور پروٹوکول کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ سرکاری خزانہ عوام کی امانت، عوامی فلاح کیلئے ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حکمران اور افسران سرکاری خزانے کے امین ہوتے ہیں۔ وہ سرکاری خزانے کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔دائر درخواست میں کہا گیا قائد اعظم نے سرکاری اجلاسوں میں چائے فراہم نہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ حکمران اور افسران سرکاری پیسے کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی عدالت سرکاری خزانے کا ذاتی استعمال روکنے کا حکم دے۔دلائل کے بعد عدالت نے سیاستدانوں اور افسران کو سرکاری خزانے سے چائے کا ایک کپ بھی پینے پر تاحکم ثانی پابندی لگا دی اور سرکاری خزانے کے ذاتی استعمال سے بھی روک دیا۔عدالت نے درخواست پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے اور سماعت 23 مئی تک ملتوی کردی۔