مقبوضہ کشمیرکے سابق کٹھ پتلی وزیراعلی عمر عبداللہ کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں کے وفد نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے مقبوضہ وادی میں جاری بدامنی کے خاتمے کیلئے سیاسی کوششوں پر زوردیا۔بھارتی میڈیاکے مطابق مقبوضہ کشمیر کی اپوزیشن جماعتوں کے وفد نے مودی پر زور دیا کہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے اورمقبوضہ کشمیر کے مسئلے کوسیاسی حل تلا ش کیا جائے۔کشمیریوں کیخلاف پیلٹ گن کا استعمال بند کیا جائے۔ بھارتی وزیراعظم نے اپوزیشن جماعتوں کے وفدکو بتایا کہ آئین کے فریم ورک کے اندر مسئلے کامستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔75منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں نریندرمودی نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی جارحیت کوروکنے کی بجائے جانی نقصان پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی جانیں گنوانے والے ہمارے لوگ ہیں ہماری قوم ہیں ۔مودی نے وادی میں معمول کے حالات کی بحالی کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مسئلے کے حل کیلئے بات چیت ہونی چاہیے ہمیں آئین کے فریم ورک کے اندر مسئلے کامستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔وفد نے مقبوضہ کشمیر میں جانوں کے ضیاع پردکھ اور افسوس کے اظہار کے حوالے سے وزیراعظم کو ایک یادداشت بھی پیش کی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے تسلیم کیا ہے کہ صرف ترقی مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہیں ہے ہم نے بھارتی وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں اور مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے ۔ہم نے مودی سے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کی وجہ بننے والے مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور مسئلے کا درست حل نکالا جائے ۔ عمر عبداللہ کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے وفد نے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی سے بھی ملاقات کی۔ راہول گاندھی نے کشمیر میں جاری ہنگاموں اور بدامنی کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ہنگاموں سے متاثرہ ریاست کے اپوزیشن قائدین نے راہول گاندھی سے کہا کہ وہ کشمیر میں جاری مظاہروں کا انتظامی کی بجائے سیاسی حل دریافت کرنے قومی سطح پر کوششیں کریں۔