لندن (نوائے وقت رپورٹ) برطانیہ کی رکن اسمبلی نصرت غنی نے کہا ہے کہ کنزرویٹو حکومت نے مجھے فروری 2020ء میں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے وزارت سے ہٹا دیا تھا۔ برطانوی اخبار ’’سنڈے ٹائمز‘‘ کے مطابق سابق جونیئر ٹرانسپورٹ منسٹر نصرت غنی نے الزام عائد کیا ہے کہ دو سال قبل ان سے وزارت کا عہدہ صرف اس لیے لے لیا گیا تھا کیوں کہ کابینہ کے کچھ ارکان کو میرے مسلمان ہونے سے مسئلہ تھا۔ 39 سالہ نصرت غنی نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کی ذمہ داری نبھانے والے ’’چیف وہپ‘‘ مارک سپینسر نے بتایا تھا کہ کابینہ کے دیگر ارکان آپ کے مسلم عقیدے سے پریشان تھے۔ مسلم رکن اسمبلی نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ وزارتوں کے ردوبدل کے اجلاس میں میرے مسلمان ہونے کو ایک مسئلے کے طور پر اٹھایا گیا تھا۔ میری اپنی پارٹی کے اس رویے سے میرا اعتماد متزلزل ہوا اور میں نے بعض اوقات سنجیدگی سے اسمبلی کی رکنیت چھوڑنے پر بھی غور کیا۔ خیال رہے کہ نصرت غنی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ان کے ایک کنزرویٹو ساتھی ولیم ریگ نے پارلیمانی وہپس پر ممبران پارلیمنٹ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ وزیر اعظم بورس جانسن کے دفتر سے سابق وزیر نصرت غنی کے اس الزام پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم چیف وہپ مارک سپینسر نے ٹوئٹر پر جواب دیا کہ یہ الزامات مکمل طور پر جھوٹے ہیں اور میں انہیں ہتک آمیز سمجھتا ہوں۔ دوسری جانب برطانیہ کی حزب اختلاف کے لیڈر سر کئیر سٹارمر نے نصرت غنی سے اظہار یکجہتی کیا اور کہاکہ کنزرویٹو پارٹی کو ان الزامات کی مکمل اور فوری تحقیقات کرنا ہوں گی۔ برٹش پاکستانی رکن پارلیمنٹ افضل خان کا کہنا ہے کہ مذہبی بنیاد پر نصرت غنی کو منافرت کا نشانہ بنایا جاناگھناؤنا اور خوفناک عمل ہے، ٹوری پارٹی میں ادارہ جاتی سطح پر اسلاموفوبیا واضح ہوگیا۔ ادھر ہاؤس آف لارڈز کی رکن بیرونس سعیدہ وارثی نے نصرت غنی کی حمایت میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اسلاموفوبیا پر نصرت غنی کی آواز سنی جائے۔