اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وزارت صنعت و پیداوار نے خریف سیزن 2024 میں ملک میں قیمتوں اور سپلائی کو مستحکم کرنے کیلئے 0.200 ملین میٹرک ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کی سفارش کی ہے۔ یہ فیصلہ کھاد کی جائزہ کمیٹی کے اجلاس میں خریف سیزن-2024 کے دوران کھپت کے انداز، دستیاب اسٹاک اور مستقبل کی ضروریات کا تجزیہ کرنے کے بعد کیا گیا۔وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے بتایا کہ یوریا کھاد کی طلب میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ خریف سیزن کی متوقع طلب تقریباً 3442 میٹرک ٹن ہے۔ ملک میں دستیاب اسٹاک تقریباً 3192 میٹرک ٹن ہے۔ 0.200 ملین میٹرک ٹن کمی کو درآمد کرکے پورا کیا جائے گا اور باقی مقامی کھاد پلانٹس میں پیداوار بڑھا کر پورا کیا جائے گا۔ مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام مقامی یوریا فرٹیلائزر پلانٹس پوری صلاحیت کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ اس سلسلے میں حکومت فرٹیلائزر انڈسٹری کو گیس کی ہموار فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہاہے کہ وفاقی حکومت نے چینی برآمد کی اجازت نہیں دی،شوگرملزایسوسی ایشن کی درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں، چینی کی قیمت میں اضافیکا خدشہ ہوا تو برآمد کی اجازت نہیں دیں گے،چینی کی ہول سیل قیمت میں 2 سے 3 روپے اضافہ ہوا ہے۔وفاقی وزیرصنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی برآمد کے فیصلے سے پہلے صوبوںسے سے ذخیرہ اندوزی نہ ہونیکی گارنٹی لیں گے۔
وزارت صنعت و پیداوار کی 0.200 ملین میٹرک ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کی سفارش
Apr 26, 2024