نیو یارک (این این آئی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ غیر ملکی قبضے اور تسلط کے زیرسایہ زندگی بسر کرنے والوں کو آزادی اور انصاف کی فراہمی سے انکار کرکے عالمی امن و استحکام کو فروغ نہیں دیا جاسکتا، مشرق وسطیٰ میں امن کی بنیاد مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر رکھی جاسکتی ہے، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال خواہ کسی کی طرف سے ہو اور کہیں بھی ہو ، یہ ایک گھنائونا،غیر قانونی اورقابل مذمت عمل ہے، مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام بڑی طاقتوں کی سیاست اور خطہ کے ممالک کے مفادات کے ٹکرائو کا نتیجہ ہے جس کی بدولت خطے کے لاکھوں مکین مصائب کا شکار ہیں، جب تک انسانی زندگی، انسانی حقوق کا احترام اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری نہیں کی جاتی غیر معمولی تباہی کی طرف دنیا کا سفر جاری رہے گا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل سفیر ملیحہ لودھی نے یہ بات سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے غیر ملکی قبضے اور تسلط کے خلاف فلسطینیوں کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کی بنیاد مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر رکھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کے ایک ریاستی حل کا سراب امن فراہم کرے گا نہ سلامتی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے کے دوران کسی اور قوم نے اس قدر ناانصافیوں کا سامنا نہیں کیا جس قدر ناانصافیوں کا سامنا فلسطینیوں نے کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ ستر سال کے دوران ان کو ان کے مادر وطن اور گھروں سے نکال باہر کیا گیا، اسرائیلی فوج نے ان کے علاقوں پر قبضہ کرلیا اور انہیں ایسے حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا جو نسلی تعصب سے مشابہ ہیں۔ پاکستانی مندوب نے غزہ میں گریٹ مارچ آف ریٹرن کے دوران اسرائیل کے ظالمانہ قبضے اور غاصبانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس پرامن احتجاج کو قابض طاقت نے قتل گاہ میں تبدیل کردیا اور نہتے فلسطینیوں پر اندھا دھند فائرنگ کے مناظر کو پوری دنیا کے لوگوں نے ٹیلی ویژن سکرینوں پر دیکھا۔ ملیحہ لودھی نے یاد دلایا کہ 35 فلسطینی باشندوں جن میں 14 سال کے بچے بھی شامل تھے کو قتل کردیا گیا لیکن سلامتی کونسل نے ان واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی نہیں کیا اور فلسطینیوںکی طرف سے ان کو انصاف فراہم کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا گیا۔ پاکستانی مندوب نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی رپورٹس پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال خواہ کسی کی طرف سے ہو اور کہیں بھی ہو، یہ ایک گھنائونا، غیرقانونی اور قابل مذمت عمل ہے۔ انہوں نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لئے او پی سی ڈبلیو کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی تعیناتی کا خیرمقدم کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مشن حقائق کو سامنے لانے میں معاون ثابت ہوگا۔