• news

پہلے گھر کی صفائی‘ خواجہ آصف کے مؤقف کا حامی ہوں: شاہد خاقان

اسلام آباد+ لندن + نیویارک (سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی چار روزہ دورے پر نیویارک پہنچ گئے۔ وہ 21ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہ اجلاس سے خطاب کے دوران انسداد دہشت گردی کیلئے پاکستان کے بے مثال کوششوں ، قربانیوں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کے تعاون، ایٹمی عدم پھیلائو کیلئے پاکستان کے عزم سمیت عالمی و علاقائی اہمیت کے امور کا احاطہ کریںگے۔ وہپاکستان کے اندر دہشت گردی کیلئے بھارت کی سرپرستی، اس ضمن میں کلبھوشن یادیو سمیت بھارتی تخریب کاروںکے نیٹ ورک کی گرفتاری کی تفصیلات سے عالمی سربراہان کو آگاہ کریں گے۔ بھارتی ہم منصب سے ان کی ملاقات خارج از امکان ہے کیونکہ مودی اس سربراہ اجلاس میں شرکت ہی نہیں کر رہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کیلئے نہ پاکستان اور نہ ہی امریکہ نے کسی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔البتہ نائب امریکی صدر مائیک پنس ، افغان صدر اشرف غنی، ترک صدر رجب طیب اردگان ، برطانوی وزیراعظم تھریسا مے،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہی اسلامی کانفرنس تنظیم کے رابطہ گروپ برائے کشمیر کا اجلاس بھی منعقد ہو گا جس میں خواجہ محمد آصف پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ وزیرخارجہ خواجہ آصف اور سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے نیویارک پہنچے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے کہاہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نیو یارک کے چار روزہ دورے کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں کرینگے۔ ملاقاتوں میں وہ مسئلہ کشمیر ‘میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے بحران اور افغانستان کی صورتحال پر توجہ مرکوز کریں گے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے پاکستانی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی امریکی نائب صدر مائیک پینس سمیت 9 دوطرفہ ملاقاتیں طے پاچکی ہیں اور مزید متوقع ہیں۔ وزیراعظم کی آج امریکی نائب صدر سے ملاات متوقع ہے۔ دیگر میں اردن کے شاہ کے علاوہ ترکی ‘ افغانستان ‘ سری لنکا ‘ ایران ‘ برطانیہ اور نیپال کے رہنمائوں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹرش سے بھی ملیں گے۔اس کے علاوہ وزیراعظم سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور بعض امریکی رہنمائوں سے بھی تبادلہ خیال کریں گے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 21ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے وہ بین الاقوامی سیاست اور اہم سیاسی ‘ سماجی اور ترقیاتی ایشو پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ امریکہ نے پاکستانی رہنماء کے ساتھ اپنے نائب صدر مائیک پینس کی ملاقات تجویز کی ہے کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ ازسرنو رابطے کے خواہاں ہیں۔امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کا افغانستان کے بارے میں اپنا نکتہ نظر ہے اور پاکستان کا اپنا موقف ہے ۔ سفیر ملیحہ لودھی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے قومی مفاد پر مبنی پاکستان کی پالیسیاں واشنگٹن میں نہیں اسلام آباد میں مرتب کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا یہ مسلسل موقف رہا ہے کہ مذاکراتی تصفیہ کے ذریعے امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی خارجہ تعلقات کے بارے میں کونسل اور امریکی پاکستان بزنس کونسل سے بھی خطاب کریں گے۔وہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے بھی ملاقات کریں گے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران او آئی سی ‘نام ‘ جی 77 ‘ ای سی او‘ سارک ‘ دولت مشترکہ ‘ ڈی 8 سمیت علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے وزارتی اجلاس بھی منعقد ہوں گے اس موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کا اجلاس بھی ہوگا۔ قبل ازیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کا پہلے اپنے گھر کی صفائی سے متعلق بیان درست ہے۔ میں خود بھی اس مؤقف کا حامی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے ضمنی الیکشن میں کامیابی نے ثابت کر دیا کہ نواز شریف ہی عوام کے رہنما ہیں۔ نواز شریف ہی ترقی کے ضامن ہیں۔ ایل این جی کیس میں حاضر ہوں، عدالت میں سب کچھ سامنے آ جائے گا اور شیخ رشید کے لگائے گئے الزامات جھوٹے ثابت ہوں گے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جمعرات 21 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جہاں وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں ان کی توجہ مسئلہ کشمیر، میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے بحران اور افغانستان کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرائیں گے۔ ادھر ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے اپنے بیان مںی کہا ہے کہ کابل حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے سے متعلق وزیراعظم سے منسوب خبر بے بنیاد ہے۔ متعلقہ پرنٹ میڈیا وزیراعظم کی گفتگو کے متن کا جائزہ لے۔ وزیراعظم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ پاکستان پر حملے باہر سے ہوتے رہے ہیں۔

ای پیپر-دی نیشن