شہبازشریف کو لندن سڑک پار کرتے دیکھا گیا‘ یہاں آ کر سب بدل جاتا ہے : لاہور ہائیکورٹ
لاہور (وقائع نگار خصوصی) توہین عدالت کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے احسن اقبال کو تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس مسعود عالم نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے سابق وزیراعلیٰ کو دیکھا کیسے سڑک پار کر رہے تھے ؟ پاکستانیوں کا باہر یہ حال ہوتا ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ نے احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کیس پر سماعت کی۔ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ احسن اقبال کے وکیل نے کیس کی کارروائی انتخابات تک ملتوی کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔عدالت میں احسن اقبال کی تقریر پراجیکٹر پر دوبارہ چلا ئی گئی۔ جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو ملکی پالیسی کے بارے میں بتانے گئے اور ججز پر بات کرنے لگ گئے۔ انہوں نے استفسار کیا جس تقریب میں گئے تھے کیا وہ عدلیہ کے بارے میں گفتگو کیلئے درست پلیٹ فارم تھا۔ جس پر احسن اقبال نے بتایا کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور ملک کی خدمت کیلئے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔عدالت نے سابق وزیر داخلہ کو باور کرایا کہ ہر بار یہ نہ دہرایا کریں کہ پاکستان آکر احسان کیا، شہباز شریف کس طرح بیرون ملک سڑک پار کر رہے تھے، واپس آتے ہی پھر وہی پروٹوکول شروع ہو گیا۔ جسٹس مظاہر علی اکبرنے احسن اقبال پر برہمی کاظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس قوم کے ساتھ زیادتی کی ہے۔احسن اقبال نے بتایا عدالت کے مزاج کو اچھا رکھنے کے لئے آج اچھا سوٹ پہنا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہمارا مزاج اس دن بھی اچھا تھا جب آپ نے کہا تھا مخالفین کہتے ہیں مجھے سزا ہوگی۔ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے کہا کہ ہم کسی کے ماتحت نہیں ہیں۔ ایسے کسی بوجھ کے ساتھ واپس نہیں جانا چاہتے جہاں سب جاتے ہیں۔ وکیل احسن اقبال نے بتایا ہر سماعت پر کہا عدالت بڑے دل کے ساتھ فیصلہ کرے۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ بڑا دل تو بیماری ہے۔ عدالت نے احسن اقبال کو آئندہ سماعت پر تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ کیس کی مزید سماعت 29 جون تک ملتوی کردی گئی۔
توہین عدالت کیس