• news

وزیراعظم اے سی سے نہیں نکل رہے، 16 اکتوبر کو آزاد کشمیر سے اسلام آباد کی طرف مارچ ہوگا: سراج الحق

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پوری قوم بھارت سے مقابلے کے لیے تیار ہے لیکن خود کو ٹیپو سلطان کہنے والے وزیراعظم ایئرکنڈیشنڈ سے باہر نہیں نکل رہے۔ لاہور کے مال روڈ پر منعقدہ ’کشمیر بچاؤ مارچ‘ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم کی یو این میں کی گئی تقریر کے الفاظ ان کا پیچھا کررہے ہیں، وزیراعظم نے کہا تھا کہ اتنا انتظار کرلیں کہ میں اقوام متحدہ میں تقریر کرلوں، اب تقریر کو 9 دن گزر گئے لیکن کشمیر سے کوئی کرفیو نہیں اٹھا، کوئی قیدی رہا نہیں ہوا، بستر مرگ پر موجود یاسین ملک، سید علی گیلانی، شبیر شاہ اور حریت قیادت باہر نہیں آسکے، کئی کشمیری اپنے گھروں میں شہید ہوچکے اور انہیں دفنانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ کشمیری سرینگر میں پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی بستیاں برباد قبرستان آباد ہو گئے ہیں۔ حکمرانوں کی عقل پرافسوس ہے جو کہتے تھے مودی کامیاب ہوگا تو مسئلہ کشمیر حل ہوگا۔ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے توبتائیں تو سہی پھر حل کیا ہے؟ جب کہ وزیراعظم اب کہتے ہیں جس نے ایل اوسی عبور کی یہ ملک کے ساتھ غداری ہوگی مگر ہم کہتے ہیں جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنا مودی کی الیکشن مہم کا حصہ تھا اور ساری دنیا جانتی ہے مودی کا اگلا ایجنڈا پاکستان ہے، مودی اور ٹرمپ دونوں چکرباز ہیں، ہمیں امریکا کی ثالثی منظور نہیں ہے، حکمران بزدل ہوچکے ہیں اور عمران خان نے امریکا کے ڈر سے عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات تک نہیں کی۔ حکومت نے معیشت، سیاست اور عدالتوں کا بیڑا غرق کردیا ہے، وزیراعظم کے موجود ہوتے ہوئے تاجر، نوجوان آرمی چیف سے مل رہے ہیں، انہیں وزیراعظم پر اعتماد نہیں رہا۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے 16 اکتوبر کو آزاد کشمیر سے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر دیا۔ سراج الحق نے کہا کہ اقوام متحدہ میں کی گئی وزیراعظم کی تقریر ان کا پیچھا کر رہی ہے۔ کشمیر بچاؤ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریر سے مقبوضہ کشمیر میں نہ کرفیو ختم ہوا نہ نظربندیاں ختم ہوئیں اور نہ ہی تشدد ختم ہوا۔ 16 اکتوبر کو کشمیری مائیں‘ بہنیں اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگی۔

ای پیپر-دی نیشن