’’جیہدا نبی ؐ مولا ، اوہدا علی ؓ مولا !‘‘ (2)
’’ مولا علی ؓ کا سایۂ شفقت ! ‘‘
معزز قارئین !۔ مَیں نے 1983ء میں خواب میں دیکھا کہ’’ مَیں کسی دلدل میں ہُوں اور میرا جسم اُس میں دھنساجا رہا ہے ، پھر اچانک میرے مُنہ سے یا علیؓ کا نعرہ بلند ہُوا تو، مجھے جیسے کسی کرین نے دلدل سے نکال کر کنارے پر اُتار دِیا۔ غیب سے آواز آئی کہ ’’تُم پر مولا علیؓ کا سایۂ شفقت ہے !‘‘ ۔ ’’مولا علیؓ کے سایۂ شفقت ‘‘ سے ستمبر 1991ء میں مجھے ’’نوائے وقت ‘‘ کے کالم نویس کی حیثیت سے ، صدر غلام اسحاق خان کی میڈیا ٹیم کے رُکن کی حیثیت سے خانۂ کعبہ میں داخل ہونے کی سعادت حاصل ہُوئی، یقینا اِس کاکچھ ثواب ، جنابِ مجید نظامی ؒ کو بھی ملا ہوگا؟۔
مَیں نے راجپوتوں کی تاریخ کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنے کے لئے 1980ء سے ہندی زبان سِیکھنا شروع کی (ابھی تک سِیکھ رہا ہُوں ) بھارت کے صوبہ ہریانہ کے قدیم شہر ’’ کُرو کشیتر‘‘ میں ہزاروں سال پہلے ایک ہی دادا کی اولاد کورُوئوں اور پانڈوُئوں کی جنگ عظیم کو ’’ مہا بھارت‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ہِندو دیو مالا کے مطابق وِشنوؔ دیوتا کے اوتار شری کرشن جی نے پانڈو ہِیرو ارجنؔ کو ’’ جو ’’ اُپدیش‘‘ (خُطبہ) دِیا ، وہ ہندوئوں کی مقدس کتاب ’’ گیِتا‘‘ کہلاتی ہے ۔ ارجنؔ شری کرشن جی کا پھوپھی زاد ، بہنوئی ( اُن کی سوتیلی بہن ’’سُبھادرا‘‘ کا شوہر) اور شاگرد تھا۔ شری کرشن جی نے ارجنؔ کے لئے ’’سِتھت پرتگّیہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے ، جِس کے معنی ہیں ’’ بہت ہی زیادہ عالم، فاضل ، بڑا جنگ جُو اور بہادر‘‘
’’ آگرہ کا تاج محل ! ‘‘
معزز قارئین !۔ مجھے جولائی 2011ء میں صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف کی میڈیا ٹیم کے رُکن کی حیثیت سے اُن کے ساتھ دہلی اور آگرہ جانے کا موقع ملا ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سیّد انور محمود گیلانی اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر ، چودھری اشفاق احمد گوندل نے کئی گروپس میں میڈیا ٹیم کو، تاج محل دِکھانے کا بندوبست کِیا ۔
میرے گروپ میں جناب اے ۔ بی ۔ ایس جعفری ، مِیر جمیل اُلرحمن ، جناب غلام اکبر ، سیّد ضمیر نفیس اور جناب محمد افضل بٹ اور دوسرے دوست تھے۔ ہمارے گائیڈ رامؔ پرکاش نے (شاید) ہمیں خُوش کرنے کے لئے گنبد میں زور سے پکارا ’’ اللہ‘‘ ۔ پھر ہم سب کو ’’ اللہ‘‘ کی صدائے باز گشت سُنائی دِی، پھر اُس نے ہم سب سے کہا کہ ’’آپ بھی کوئی نعرہ لگائیں؟ ‘‘ تو، مَیں نے بڑی قوت سے نعرہ لگایا۔ ’’ یا علیؓ !‘‘۔ گُنبد سے بھی ’’ یاعلیؓ ‘‘ کی صدا گونج اُٹھی ۔ جعفری صاحب نے کہا ، ’’ اثر چوہان صاحب!۔ کیا آپ شیعہ ہیں؟‘‘ ۔ مَیں نے کہا کہ ’’ مَیں تو ایک عام مسلمان ہُوں لیکن ، دشمن ملک کی سرزمین پر یا علیؓ ؔسے بڑا اور کون سا ایمان فروز نعرہ لگایا جائے؟ ۔ پاکستان کی مسلح افواج کا سب سے بڑا اعزاز بھی تو مولا علیؓ کے صفاتی نام ’’حیدر‘‘ پر ’’نشانِ حیدر‘‘ ہے ‘‘۔ اِس پر سبھی دوست خُوش ہُوئے۔
مولا علی ؓ کی مناقب ! ‘‘
معزز قارئین !۔ مَیں نے اُردو اور پنجابی میں مولا علی ؓ کی دو مناقب لکھی ہیں لیکن، کئی نعت ہائے رسولؐ مقبول میں آپ ؓ کا تذکرہ ہے۔ ’’ جیہدا نبی ؐ مولا اوہدا علیؓ مولا ‘‘ کے عنوان سے میری اردو منقبت اور پنجابی منقبت حاضر ہے …
تُم کو ملی ہے، بزمِ طریقت میں صندلی!
تمہارا خَوشہ چِین ہے ، ہر پِیر ، ہر ولی !
علی ؓ علیؓ
…O…
ہو بابِ عِلم ، عِلم میں عالی مقام ہو!
خیبر شِکن ضَرور ہو، پر دِل ہے مخملی!
علی ؓ علیؓ
…O…
تُم بزم کائنات میں ہو، مِثل آفتاب!
روشن تمہارے نور سے ، ہر شہر، ہر گلی!
علی ؓ علیؓ
…O…
تُم نائب رسول ہو اور رُکن پنجتنؓ!
ظاہر ہے تُم پہ رازِ حقیقت ، خفی، جلی!
علی ؓ علیؓ
…O…
ہر گُل میں تازگی ہے ، محمدؐ کے نام سے!
تُم سے مہک رہی ہے ، گُلستاں کی ہر کلی!
علی ؓ علیؓ
…O…
مولائے کائنات ہو ، مُشکل کُشا بھی ہو!
دیکھا نہ آسمان نے تُم سا مہا بلی!
علی ؓ علیؓ
…O…
سیراب کرتے جائو، ہر اِک تشنہ کام کو!
آجائو، آ بھی جائو، مِٹے دِل کی بے کلی!
علی ؓ علیؓ
…O…
پھر جوش سے لگائیں اثرؔ نعرہ حیدری!
صفہائے دشمناں میں مچے پھر سے کھلبلی!
علی ؓ علیؓ
…O…
پنجابی زبان کی میری نعت رسول مقبولؐ کے دوسرے بند میں آپ ملاحظہ فرمائیں ، ’’ مدینۃ اُلعلمؐ ‘‘ کے ’’ باب اُلعلمؓ ‘‘ اورگرتوں کو سنبھالنے والے ’’ مہابلی ‘‘ ۔(شہ زور، کمال طاقتور) مولا علی مرتضیٰؓ کا تذکرہ! …
سَرچشمہ، حُسن و جمال، دا!
کِسے ڈِٹھّا نہ، اوسؐ دے نال دا!
ربّ گھلّیا، نبیؐ، کمال دا!
مَیں غُلام، اوسؐ دی، آلؓ دا!
…O…
بُوہا عِلم دا، تے مہابلی!
اوہداؐ جانِشین، علیؓ وَلی!
جیہڑا ، ڈِگدیاں نُوں، سنبھال دا!
مَیں غُلام، اوسؐ دی، آلؓ دا!
…O…
جیِہدا نبیؐ مولا، اوہدا علیؑ مولا!‘
نبی ؐ آکھیا سی، ’’وَلیاں دا وَلی ؓ مولا!
جیِہدا نبیؐ مولا، اوہدا علیؓ مولا!‘
…O…
لوکی آکھدے نیں، شیر تَینوں یزداں دا!
سارے نعریاں توں وڈّا ، نعرہ تیرے ناں دا!
تیرے جیہا نئیں کوئی ، مہابلی مولاؓ !
جیِہدا نبیؐ مولا، اوہدا علیؓ مولا!
…O…
واہ! نہج اُلبلاغہ، دِیاں لوآں!
سارے باغاں وِچّ، اوس دِیاں خوشبواں!
پُھلّ پُھلّ مولاؓ، کلی کلی مولاؓ!
جیِہدا نبیؐ مولا، اوہدا علیؓ مولا!
…O…
سارے وَلیِاں دے ، بُلھاں اُتّے سَجدی اے!
مَن موہ لَیندی، جدوں وَجّدی اے!
تیری حِکمتاں دی، وَنجھلی مولاؓ!
جیِہدا نبیؐ مولا، اوہدا علیؓ مولا!
…O…
پائو اپنے اثرؔ وَلّ، وِی پھیری!
دِن رات تڑفدی اے، رُوح میری!
راہ تکدی کدوں دی، کھلّی مولاؓ!
جیِہدا نبیؐ مولا، اوہدا علیؓ مولا!
…O…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ختم شد)